Codex Gigas Book In Urdu Fixed Link

یہ کتاب طویل عرصے تک پراگ (Prague) میں رہی، لیکن 1648 میں تیس سالہ جنگ (Thirty Years' War) کے دوران، سویڈش فوج نے اسے چیکوسلوواکیہ سے چرایا اور اسے بطور جنگی مال لے گئے۔

कोडेक्स गिगास क्या है? (What is Codex Gigas?)

کتاب کے ان صفحات کو "مُہلک" (cursed) سمجھا جاتا ہے جن پر شیطان کی تصویر ہے۔ روایت ہے کہ جو بھی اسے دیکھتا یا چھوتا ہے، اس پر مصیبت آتی ہے۔ ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ شیطان والے صفحے کے برعکس، سیاہی اور پارچمنٹ دوسرے صفحات سے زیادہ تاریک ہو گئے ہیں، گویا شیطان کی موجودگی نے انہیں جھلسا دیا ہو۔

تاریخ دانوں اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کتاب کسی ایک ہی شخص نے لکھی ہے، لیکن اسے مکمل کرنے میں ایک رات نہیں بلکہ کم از کم 20 سے 30 سال codex gigas book in urdu

اگر آپ اسے مزید مختصر یا طویل کرنا چاہیں، تو بتائیے گا۔

شاید سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی اور پیچیدہ کتاب ایک ہی شخص نے لکھی یا کئی نے؟ برطانوی ماہر مائیکل گولِک (Michael Gullick) نے پورے مخطوطے کے حروف کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس کے تمام صفحات ایک ہی فرد نے تحریر کیے ہیں۔

کوڈیکس گیگاس کا سفر بھی اس کی ہی طرح منفرد ہے۔ codex gigas book in urdu

نیوکلئس تجزیے سے معلوم ہوا کہ پوری کتاب میں استعمال ہونے والی سیاہی (Ink) اور لکھنے کا انداز (Handwriting) بالکل ایک ہی شخص کا ہے۔

اپنی تاریخ کے دوران، یہ کتاب کئی جنگوں اور حادثات سے گزری۔ 1648ء میں، "تیس سالہ جنگ" (Thirty Years' War) کے دوران، سویڈن کی فوج نے پراگ پر قبضہ کر لیا اور اس کتاب کو بطور مالِ غنیمت اپنے ساتھ لے گئے۔

ماہرین کے مطابق، اس کتاب کو لکھنے میں ایک شخص کو تقریبا 20 سے 30 سال لگ سکتے ہیں، اگر وہ دن رات کام کرے۔ ایک رات میں اسے لکھنا ناممکن ہے 0.5.2۔ codex gigas book in urdu

آج، یہ دیو ہیکل کتاب سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں موجود میں رکھی گئی ہے۔ یہاں اسے ایک خاص خزینے (Treasury Room) میں شیشے کے کیس میں رکھ کر عوام کی نمائش کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ آپ کو بتا کر خوشی ہوگی کہ اس کتاب کی مکمل ڈیجیٹائزڈ کاپی بھی آن لائن دستیاب ہے ، جسے آپ ورلڈ ڈیجیٹل لائبریری (World Digital Library) کی ویب سائٹ پر جا کر دیکھ سکتے ہیں اور اس کے پراسرار صفحات کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔ 2007 سے 2008 کے دوران، اس کتاب کو چند ماہ کے لیے اس کی اصل سرزمین چیک ریپبلک بھی لے جایا گیا تھا، جہاں اسے ہزاروں لوگوں نے دیکھا۔

कोडेक्स गिगास के लिखे जाने की कहानी बेहद डरावनी और मशहूर है। यह घटना 13वीं शताब्दी (लगभग 1230 ईस्वी) में के एक पोद्लाज़िस (Podlažice) मठ की है। भिक्षु की सजा

یہاں اردو میں "Codex Gigas" (کوڈیکس گیگاس) پر ایک بلاگ پوسٹ پیش کی جا رہی ہے:

یہ کتاب تقریباً 3 فٹ لمبی ہے اور اس کا وزن 165 پاؤنڈ (تقریباً 75 کلوگرام) ہے۔ اسے اٹھانے کے لیے کم از کم دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر ایک شخص نے روزانہ اوسطاً 100 سطریں لکھی ہوں، تو ، جبکہ اس کی تزئین و آرائش (Illumination) پر مزید بیس سال لگ سکتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس کتاب کی اہمیت اور اسے لکھنے والے کی لگن کو ظاہر کرتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی مقصد کے تحت لکھی گئی ہو۔